کاروار:13/ڈسمبر (ایس او نیوز) کراولی اتسوا کے دوران ساحلِ سمندر لگائے گئے باکڑا ہوٹلوں کی وجہ سے پیر کی صبح کاروار کے سمندری ساحل پر کچرے کے ڈھیر ہی ڈھیرے نظر آئے۔ جہاں دیکھووہاں پلاسٹک ہی پلاسٹک ۔ اتوار کی رات منعقدہ موسیقی پروگرام دیکھنے کے بجائے زیادہ تر ساحل کنارے ہوٹلوں میں کھٹا میٹھا کھانے والوں کی تعداد زیادہ ہونےکی بات کہی جارہی ہے۔ قریب آدھا کلومیٹر تک ساحل پر پلاسٹک بوتلیں، تھیلیاں ، کھانے پینے کے پلاسٹک لوٹے ، گلاس ، برتن ، شراب کی بوتلیں ہرجگہ پڑی ہوئی تھیں۔ غذائی افسر یعقوب کی حکم بجاآوری کرتے ہوئے بلدیہ کے صفائی ملازمین ساحل کو پاک صاف کرنے میں مصروف تھے، لیکن ساحل اتنا گندہ اور خراب ہوگیا تھا کہ جہاں تک نظر جاتی وہاں تک گندگی اور کچرے کا ڈھیر تھا۔ کراولی اتسوا کے ڈائس سے دور ساحل سمندر پر کچرے کی ڈھیر دیکھ کر بلدیہ ملازمین بھی پریشان ہوگئے تھے۔حالانکہ بلدیہ کی طرف سے عوام کو کچرا پھینکنے کے لئے بڑے بڑے ڈرم جہاں تہاں رکھے ہوئے تھے، لیکن عوام ان ڈرمس میں کچرا پھینکنے کے بجائے ساحل پر ہی جہاں جگہ ملی وہاں پھینک کر اپنی لاشعوری کا ثبوت چھوڑ گئے۔
اس دوران ساحل سمندر ممنوعہ پلاسٹک کا ڈھیر نظر آنے پر سوال پیدا ہوتاہے کہ پلاسٹک پر پابندی کے باوجود اتنا سارا پلاسٹک کہاں سے آیا؟ ۔ کاروار میں کہیں بھی پلاسٹک نظر آتاتو بلدیہ کی طرف سے جرمانہ عائد کیا جاتاہے۔ کیا کروالی اتسوا کے دوران محکمہ تحصیل ، بلدیہ اور انسداد آلودگی محکمہ کے افسران دیکھ کر بھی انجان بنے ہوئے تھےکیا؟ بڑی مقدار میں پلاسٹک استعمال ہواہے۔ اس پر قدغن لگانے میں ناکام ہونےکی وجہ سے ہی ساحل سمندر کچرے کا ڈھیر ہونے کی اہم وجہ بتائی جارہی ہے۔